کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مار پیٹ کا قصاص اور امیر کو اپنے سے قصاص دلوانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4536
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” آؤ قصاص لے لو ۱؎ “ وہ بولا : اللہ کے رسول ! میں نے معاف کر دیا ۔
وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر عادل تھے کہ جو تکلیف کسی کو غلطی سے پہنچ جاتی اس سے بھی قصاص لینے کو کہتے اور اپنی عظمت کا خیال نہ کرتے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4536
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (4777), عبيدة بن مسافح،لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجھول الحال, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159
تخریج حدیث « سنن النسائی/القسامة 16 (4777)، (تحفة الأشراف: 4147)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/28) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4537
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ أُقِصُّهُ مِنْهُ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَتُقِصُّهُ مِنْهُ ؟ قَالَ : إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أُقِصُّهُ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوفراس کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا : ” میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں ، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں ، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے ، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا “ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے ، وہ بولے : ” ہاں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے قصاص لوں گا “ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4537
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (4781) مختصرًا وسنده حسن، أبو فراس النھدي: وثقه ابن حبان و ابن خزيمة وابن الجارود والحاكم وغيرهم فھو صدوق حسن الحديث
تخریج حدیث « سنن النسائی/القسامة 19 (4781)، (تحفة الأشراف: 10664)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 1/41) (ضعیف) »