کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 4515
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے ، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3473), رواية شعبة عن قتادة محمولة علي السماع ورواية حسن البصري عن سمرة من الكتاب، وانظر الحديث السابق (4512)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدیات 18 (1414)، سنن النسائی/القسامة 6 (4740)، 7 (4743)، 12 (4757)، سنن ابن ماجہ/الدیات 23 (2663)، (تحفة الأشراف: 4586)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 5/10، 11، 12، 18)، دی/ الدیات 7 (2403) (ضعیف) » (سند میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حسن بصری نے عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ سے دوسری احادیث نہیں سنی ہے)
حدیث نمبر: 4516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، وَحَمَّادٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ ، مِثْلَ حَدِيثِ مُعَاذٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے` اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے “ اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4516
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (4515),
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4586) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4517
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ مِثْلَهُ ، زَادَ : ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَكَانَ يَقُولُ : لَا يُقْتَلُ حُرٌّ بِعَبْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی قتادہ سے شعبہ کی سند والی روایت کے مثل مروی ہے` اس میں اضافہ ہے کہ پھر حسن ( راوی حدیث ) اس حدیث کو بھول گئے چنانچہ وہ کہتے تھے : آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4517
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159
تخریج حدیث « وانظر حدیث رقم : (4515)، (تحفة الأشراف: 4586) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4518
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : " لَا يُقَادُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری کہتے ہیں` آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4518
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (4515)، (تحفة الأشراف: 18536) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مُسْتَصْرِخٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : جَارِيَةٌ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ مَا لَكَ ؟ قَالَ : شَرًّا أَبْصَرَ لِسَيِّدِهِ جَارِيَةً لَهُ فَغَارَ فَجَبَّ مَذَاكِيرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيَّ بِالرَّجُلِ ، فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَنْ نُصْرَتِي ؟ قَالَ : عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ ، أَوْ قَالَ : كُلِّ مُسْلِمٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الَّذِي عُتَقَ كَانَ اسْمُهُ رَوْحُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الَّذِي جَبَّهُ زِنْبَاعٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا زِنْبَاعٌ أَبُو رَوْحٍ كَانَ مَوْلَى الْعَبْدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اس کی ایک لونڈی تھی ، آپ نے فرمایا : ” ستیاناس ہو تمہارا ، بتاؤ کیا ہوا ؟ “ اس نے کہا : برا ہوا ، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا ، تو اسے غیرت آئی ، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کو میرے پاس لاؤ “ تو اسے بلایا گیا ، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے ( اس غلام سے ) فرمایا : ” جاؤ تم آزاد ہو “ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میری مدد کون کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر مومن پر “ یا کہا : ” ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا ، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا ، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4519
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (2680 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الدیات 29 (2680)، (تحفة الأشراف: 8716، 4586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 225) (حسن) »