کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مقتول کا وارث دیت لینے پر راضی ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4504
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا شُرَيْحٍ الْكَعْبِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ وَإِنِّي عَاقِلُهُ ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ قَتِيلٌ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ : أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ ، أَوْ يَقْتُلُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو خزاعہ کے لوگو ! تم نے ہذیل کے اس شخص کو قتل کیا ہے ، اور میں اس کی دیت دلاؤں گا ، میری اس گفتگو کے بعد کوئی قتل کیا گیا تو مقتول کے لوگوں کو دو باتوں کا اختیار ہو گا یا وہ دیت لے لیں یا قتل کر ڈالیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4504
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3457), أخرجه الترمذي (1406 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدیات 13 (1406)، (تحفة الأشراف: 12058)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/31) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4505
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ : إِمَّا أَنْ يُودَى ، أَوْ يُقَادَ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاةٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي ، قَالَ الْعَبَّاسُ : اكْتُبُوا لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبُوا لِأَبِي شَاةٍ " ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : اكْتُبُوا لِي يَعْنِي خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا : ” جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے ، یا قصاص میں قتل کرے “ یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے یہ لکھ دیجئیے ( عباس بن ولید کی روایت «اکتب لی» کے بجائے «اکتبوا لی» یہ صیغۂ جمع ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابو شاہ کے لیے لکھ دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «اکتبوا لی» سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4505
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2434، 6880) صحيح مسلم (1355)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (2017)، (تحفة الأشراف: 15383، 15365) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4506
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا ، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا ، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کر دیا جائے گا ، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4506
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (1413 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/ القسامة 27 (4805)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2630)، ویأتی برقم (4541)، (تحفة الأشراف: 8709) (حسن صحیح) »