حدیث نمبر: 4496
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أُصِيبَ بِقَتْلٍ أَوْ خَبْلٍ فَإِنَّهُ يَخْتَارُ إِحْدَى ثَلَاثٍ : إِمَّا أَنْ يَقْتَصَّ وَإِمَّا أَنْ يَعْفُوَ وَإِمَّا أَنْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ ، وَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو ( اپنے کسی رشتہ دار کے ) قتل ہونے ، یا زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی ہو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا : یا تو قصاص لے لے ، یا معاف کر دے ، یا دیت لے لے ، اگر وہ ان کے علاوہ کوئی چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو ، اور جس نے ان ( اختیارات ) میں زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4497
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ إِلَيْهِ شَيْءٌ فِيهِ قِصَاصٌ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ ( پہلے ) آپ اس میں معاف کر دینے کا حکم دیتے ۔
حدیث نمبر: 4498
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ ، فَقَالَ الْقَاتِلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَلِيِّ : أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ ، قَالَ : فَخَلَّى سَبِيلَهُ ، قَالَ : وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص قتل کر دیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا ، آپ نے اس ( قاتل ) کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا ، قاتل کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث سے فرمایا : ” سنو ! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا ، تو تم جہنم میں جاؤ گے “ یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا ، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے ، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا ، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑ گیا ۔
حدیث نمبر: 4499
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ، حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جِيءَ بِرَجُلٍ قَاتِلٍ فِي عُنُقِهِ النِّسْعَةُ ، قَالَ : فَدَعَا وَلِيَّ الْمَقْتُولِ ، فَقَالَ : أَتَعْفُو ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَقْتُلُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ بِهِ ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : أَتَعْفُو ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَقْتُلُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ ، قَالَ : أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِهِ ، قَالَ : فَعَفَا عَنْهُ ، قَالَ : فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ النِّسْعَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا ، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا ، اور اس سے پوچھا : ” کیا تم معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو کیا دیت لو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو کیا تم قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا لے جاؤ اسے “ چنانچہ جب وہ ( اسے لے کر ) چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا تم اسے معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم دیت لو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لے جاؤ “ چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا “ یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا ۔ وائل کہتے ہیں : میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا ۔
حدیث نمبر: 4500
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` علقمہ بن وائل سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4501
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَبَشِيٍّ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا قَتَلَ ابْنَ أَخِي ، قَالَ : كَيْفَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : ضَرَبْتُ رَأْسَهُ بِالْفَأْسِ وَلَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ ، قَالَ : هَلْ لَكَ مَالٌ تُؤَدِّي دِيَتَهُ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ أَرْسَلْتُكَ تَسْأَلُ النَّاسَ تَجْمَعُ دِيَتَهُ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَمَوَالِيكَ يُعْطُونَكَ دِيَتَهُ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ لِلرَّجُلِ : خُذْهُ ، فَخَرَجَ بِهِ لِيَقْتُلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّهُ إِنْ قَتَلَهُ كَانَ مِثْلَهُ ، فَبَلَغَ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ يَسْمَعُ قَوْلَهُ ، فَقَالَ : هُوَ ذَا فَمُرْ فِيهِ مَا شِئْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسِلْهُ ، وَقَالَ مَرَّةً : دَعْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِ صَاحِبِهِ وَإِثْمِهِ فَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ، قَالَ : فَأَرْسَلَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے ، آپ نے اس سے پوچھا : ” تم نے اسے کیسے قتل کر دیا ؟ “ وہ بولا : میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر گیا ، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا ، آپ نے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کر سکو “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کر سکتے ہو ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کر دیں گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، تب آپ نے اس شخص ( مقتول کے وارث ) سے فرمایا : ” اسے لے جاؤ “ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا : ” اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا “ وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا : وہ یہ ہے ، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو ، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہو گا “ چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا ۔
حدیث نمبر: 4502
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ ، وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ ، فَدَخَلَهُ عُثْمَانُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونَنِي بِالْقَتْلِ آنِفًا ، قَالَ : قُلْنَا : يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ ، أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ " ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ ، وَلَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا ، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي ؟ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَرَكَا الْخَمْرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ` ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، آپ گھر میں محصور تھے ، گھر میں داخل ہونے کا ایک راستہ ایسا تھا کہ جو اس میں داخل ہو جاتا وہ باہر سطح زمین پر کھڑے لوگوں کی گفتگو سن سکتا تھا ، عثمان اس میں داخل ہوئے اور ہمارے پاس لوٹے تو ان کا رنگ متغیر تھا ، کہنے لگے : ان لوگوں نے ابھی ابھی مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے ، تو ہم نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! آپ کی ان سے حفاظت کے لیے اللہ کافی ہے ، اس پر انہوں نے کہا : آخر یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” تین باتوں کے بغیر کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں : ایک یہ کہ اسلام لانے کے بعد وہ کفر کا ارتکاب کرے ، دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہو کر زنا کرے ، اور تیسرے یہ کہ ناحق کسی کو قتل کر دے “ تو اللہ کی قسم ! میں نے نہ تو جاہلیت میں ، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی زنا کیا ، اور جب سے اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہے میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میرا دین اس کے بجائے کوئی اور ہو ، اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے ، تو آخر کس بنیاد پر مجھے یہ قتل کریں گے ؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان اور ابوبکر رضی اللہ عنہما نے تو جاہلیت میں بھی شراب سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی ۔
حدیث نمبر: 4503
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ الضُّمَرِيَّ . ح وأَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ ، وَهَذَا حَدِيثُ وَهْبٍ وَهُوَ أَتَمُ ، يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ مُوسَى ، وَجَدِّهِ ، وَكَانَا شَهِدَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى حَدِيثِ وَهْبٍ : أَنْ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ فِي الْإِسْلَامِ وَذَلِكَ أَوَّلُ غِيَرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ عُيَيْنَةُ فِي قَتْلِ الْأَشْجَعِيِّ لِأَنَّهُ مِنْ غَطَفَانَ وَتَكَلَّمَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ دُونَ مُحَلِّمٍ لِأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ ، فَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْغِيَرَ ؟ فَقَالَ عُيَيْنَةُ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُدْخِلَ عَلَى نِسَائِهِ مِنَ الْحَرْبِ وَالْحُزْنِ مَا أَدْخَلَ عَلَى نِسَائِي ، قَالَ : ثُمَّ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْغِيَرَ ؟ فَقَالَ عُيَيْنَةُ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا ، إِلَى أَنْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ عَلَيْهِ شِكَّةٌ وَفِي يَدِهِ دَرِقَةٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَجِدْ لِمَا فَعَلَ هَذَا فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ مَثَلًا إِلَّا غَنَمًا وَرَدَتْ فَرُمِيَ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَمْسُونَ فِي فَوْرِنَا هَذَا وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ وَذَلِكَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَمُحَلِّمٌ رَجُلٌ طَوِيلٌ آدَمُ وَهُوَ فِي طَرَفِ النَّاسِ ، فَلَمْ يَزَالُوا حَتَّى تَخَلَّصَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي بَلَغَكَ وَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ ! اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ بِصَوْتٍ عَالٍ ، زَادَ أَبُو سَلَمَةَ : فَقَامَ وَإِنَّهُ لَيَتَلَقَّى دُمُوعَهُ بِطَرَفِ رِدَائِهِ " ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاق : فَزَعَمَ قَوْمُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ : الْغِيَرُ الدِّيَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زبیر بن عوام اور ان والد عوام رضی اللہ عنہما ( یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے ) سے روایت ہے کہ` محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کر دیا ، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا ، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں ، اور شور و غل بڑھ گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیینہ ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے ؟ “ عیینہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے ، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیینہ ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے ؟ “ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا ، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لیے ہوئے تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے ، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے ، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں ، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو ، اور پچاس مدینے لوٹ کر دینا “ ۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا ، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا ، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا ، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا ، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے ، اب میں توبہ کرتا ہوں ، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے ، اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ آواز بلند فرمایا : ” کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے ، اے اللہ ! محلم کو نہ بخشنا “ ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا ، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا ، ابن اسحاق کہتے ہیں : محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ «غير» کے معنی دیت کے ہیں ۔