کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کسی سے اس کے بھائی اور باپ کے جرم کا بدلہ نہ لیا جائے۔
حدیث نمبر: 4495
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ : " انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي : ابْنُكَ هَذَا ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : حَقًّا ، قَالَ : أَشْهَدُ بِهِ ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي فِي أَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ ، وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ نے میرے والد سے پوچھا : ” یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ “ میرے والد نے کہا : ہاں رب کعبہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سچ مچ ؟ “ انہوں نے کہا : میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، کیونکہ میں اپنے والد کے مشابہ تھا ، اور میرے والد نے قسم کھائی تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! نہ یہ تمہارے جرم میں پکڑا جائے گا ، اور نہ تم اس کے جرم میں “ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی “ ( الانعام : ۱۶۴ ، الاسراء : ۱۵ ، الفاطر : ۱۸ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4495
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3471), أخرجه النسائي (4836 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (4065)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (4208)، (تحفة الأشراف: 12037) (صحیح) »