مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جان کے بدلے جان لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4494
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ قُرَيْظَةُ ، وَالنَّضِيرُ وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلًا مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ فُودِيَ بِمِائَةِ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَقَالُوا : ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلُهُ ، فَقَالُوا : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ ، فَنَزَلَتْ : وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 ، وَالْقِسْطُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، ثُمَّ نَزَلَتْ :أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50 " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قُرَيْظَةُ ، وَالنَّضِيرُ جَمِيعًا مِنْ وَلَدِ هَارُونَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` قریظہ اور نضیر دو ( یہودی ) قبیلے تھے ، نضیر قریظہ سے زیادہ باعزت تھے ، جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے اس کے بدلے قتل کر دیا جاتا ، اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو سو وسق کھجور فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا جاتا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا ، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کرو ، ہم اسے قتل کریں گے ، نضیر نے کہا : ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کریں گے ، چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آیت «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ” اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو “ اتری ، اور انصاف کی بات یہ تھی کہ جان کے بدلے جان لی جائے ، پھر آیت «أفحكم الجاهلية يبغون» ” کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں ؟ “ نازل ہوئی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قریظہ اور نضیر دونوں ہارون علیہ السلام کی اولاد ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4494
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (4736), داود عن عكرمة منكر, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158
حدیث تخریج « سنن النسائی/القسامة 4(4736)، (تحفة الأشراف: 6109) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔