کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جانور سے جماع کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4464
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ قَالَ : مَا أُرَاهُ قَالَ ذَلِكَ ، إِلَّا أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو ، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو “ ۔ عکرمہ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس سے پوچھا : اس چوپایہ کا کیا جرم ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4464
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3576), أخرجه الترمذي (1455 وسنده حسن)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (4462)، (تحفة الأشراف: 6176) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 4465
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَنَّ شَرِيكًا ، وَأَبَا الْأَحْوَصِ ، وَأَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ ، حَدَّثُوهُمْ عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ حَدٌّ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ ، وقَالَ الْحَكَمُ : أَرَى أَنْ يُجْلَدَ وَلَا يُبْلَغَ بِهِ الْحَدَّ ، وقَالَ الْحَسَنُ : هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي ، قَالَ أَبُو دَاوُد : حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے ، ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عطاء نے کہا ہے ۔ اور حکم کہتے ہیں : میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں ، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں ۔ اور حسن کہتے ہیں : وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۴۴۶۲)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4465
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3586)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحدود 23 (1455)، انظر حدیث رقم (4462)، (تحفة الأشراف: 6176) (حسن) »