حدیث نمبر: 4409
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ يَعْنِي الْقَبْرَ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، أَوْ مَا خَارَ لِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ ، أَوْ قَالَ : تَصْبِرُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ يُقْطَعُ النَّبَّاشُ : لِأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْمَيِّتِ بَيْتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! “ میں نے کہا : حاضر ہوں ، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے ، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر کو لازم پکڑنا “ یا فرمایا : ” اس دن صبر کرنا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں : کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے ۔