کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: جس نے حد کا کام کیا پھر خود آ کر اقرار جرم کیا اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4379
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا الْفِّرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ذَاكَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا ، وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ : إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَتَوْهَا بِهِ فَقَالَتْ : نَعَمْ هُوَ هَذَا ، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا ، فَقَالَ لَهَا : اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : يَعْنِي الرَّجُلَ الْمَأْخُوذَ ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا ارْجُمُوهُ ، فَقَالَ : لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ أَيْضًا ، عَنْ سِمَاكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا ، اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی ، وہ جا چکا تھا ، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس ( فلاں ) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے ، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آ گئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے ، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے ، اور اسے لے کر آئے ، تو اس نے کہا : ہاں اسی نے کیا ہے ، چنانچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا ( کہ اس پر حد جاری کی جائے ) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہو گیا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا : ” تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ( کیونکہ یہ تیری رضا مندی سے نہیں ہوا تھا ) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مراد وہ آدمی ہے ( ناحق ) جو پکڑا گیا تھا ، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا : ” اس کو رجم کر دو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہو جائے “ ۔