حدیث نمبر: 4329
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَّ بِابْنِ صَائِدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَأْتِيكَ ؟ قَالَ : يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئَةً وَخَبَّأَ لَهُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10 ، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : هُوَ الدُّخُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ يَكُنْ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ يَعْنِي الدَّجَّالَ وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ فِي قَتْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے ، وہ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، وہ ایک کمسن لڑکا تھا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا جب تک آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پشت پر مار نہ دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ “ تو ابن صیاد نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا ، اور بولا : ہاں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں ، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ تو آپ نے اس سے فرمایا : ” میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” تیرے پاس کیا چیز آتی ہے ؟ “ وہ بولا : سچی اور جھوٹی باتیں آتی ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو معاملہ تیرے اوپر مشتبہ ہو گیا ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تیرے لیے ایک بات چھپائی ہے “ اور آپ نے اپنے دل میں «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ( سورۃ الدخان : ۱۰ ) والی آیت چھپا لی ، تو ابن صیاد نے کہا : وہ چھپی ہوئی چیز «دُخ» ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہٹ جا ، تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا “ ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے : اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئیے ، میں اس کی گردن مار دوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر یہ ( دجال ) ہے تو تم اس پر قادر نہ ہو سکو گے ، اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کے قتل میں کوئی بھلائی نہیں “ ۔
حدیث نمبر: 4330
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : " وَاللَّهِ مَا أَشُكُّ أَنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ابْنُ صَيَّادٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے : قسم اللہ کی مجھے اس میں شک نہیں کہ مسیح دجال ابن صیاد ہے ۔
حدیث نمبر: 4331
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ ، فَقُلْتُ : تَحْلِفُ بِاللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ` میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے ، میں نے کہا : آپ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں ؟ تو بولے : میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم کھاتے سنا ہے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان پر کوئی نکیر نہیں فرمائی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ تمیم داری رضی اللہ عنہ والے واقعہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آنے سے پہلے کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 4332
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " فَقَدْنَا ابْنَ صَيَّادٍ يَوْمَ الْحَرَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ابن صیاد ہم کو یوم حرہ ۱؎ کو غائب ملا ۔
وضاحت:
۱؎: حرہ وہ واقعہ ہے جو مدینہ منورہ میں یزید کے لشکر کے ہاتھوں پیش آیا۔
حدیث نمبر: 4333
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس دجال ظاہر نہ ہو جائیں ، وہ سب یہی کہیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں “ ۔
حدیث نمبر: 4334
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا دَجَّالًا كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو جائیں ، اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا “ ۔
حدیث نمبر: 4335
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ عُبَيْدَةُ السَّلْمَانِيُّ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ فَقُلْتُ لَهُ : أَتَرَى هَذَا مِنْهُمْ يَعْنِي الْمُخْتَارَ ؟ فَقَالَ عُبَيْدَةُ : أَمَا إِنَّهُ مِنَ الرُّءُوسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابراہیم کہتے ہیں : عبیدہ سلمانی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی` تو میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ اسے یعنی مختار ( ابن ابی عبید ثقفی ) کو بھی انہیں دجالوں میں سے ایک سمجھتے ہیں تو عبیدہ کہنے لگے : وہ تو ان کا سردار ہے ۔