کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4310
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : جَاءَ نَفَرٌ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ فَسَمِعُوهُ يُحَدِّثُ ، فِي الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا الدَّجَّالُ قَالَ فَانْصَرَفْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَمْ يَقُلْ شَيْئًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوِ الدَّابَّةُ عَلَى النَّاسِ ضُحًى فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ وَأَظُنُّ أَوَّلَهُمَا خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوزرعہ کہتے ہیں کہ` کچھ لوگ مروان کے پاس مدینہ آئے تو وہاں اسے ( قیامت کی ) نشانیوں کے متعلق بیان کرتے سنا کہ سب سے پہلی نشانی ظہور دجال کی ہو گی ، تو میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا ، اور ان سے اسے بیان کیا ، تو عبداللہ نے صرف اتنا کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ پہلی نشانی سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ہے ، یا بوقت چاشت لوگوں کے درمیان دابہ ( چوپایہ ) کا ظہور ہے ، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے واقع ہو دوسری بالکل اس سے متصل ہو گی ، اور عبداللہ بن عمرو جن کے زیر مطالعہ آسمانی کتابیں رہا کرتی تھیں کہتے ہیں : میرا خیال ہے ان دونوں میں پہلے سورج کا پچھم سے نکلنا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2941)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الفتن 23 (2941)، سنن ابن ماجہ/الفتن 32 (4069)، (تحفة الأشراف: 8959)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 201) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4311
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَهَنَّادٌ ، المعنى ، قَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، وَقَالَ هَنَّادٌ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ،عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِي ظِلِّ غُرْفَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْنَا السَّاعَةَ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ تَكُونَ أَوْ لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ قَبْلَهَا عَشْرُ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ : خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَآخِرُ ذَلِكَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے زیر سایہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے ، ہم نے قیامت کا ذکر کیا تو ہماری آوازیں بلند ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک نہیں ہو گی ، یا قائم نہیں ہو گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں : سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ، دابہ ( چوپایہ ) کا ظہور ، یاجوج و ماجوج کا خروج ، ظہور دجال ، ظہور عیسیٰ بن مریم ، ظہور دخان ( دھواں ) اور تین جگہوں : مغرب ، مشرق اور جزیرہ عرب میں خسف ( دھنسنا ) اور سب سے آخر میں یمن کی طرف سے عدن کے گہرائی میں سے ایک آگ ظاہر ہو گی وہ ہانک کر لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2901),
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الفتن 13 (2901)، سنن الترمذی/الفتن 21 (2183)، سنن ابن ماجہ/الفتن 28 (4041)، (تحفة الأشراف: 3297)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/7) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4312
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَاكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158 الْآيَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکل آئے ، تو جب سورج نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو جو بھی روئے زمین پر ہو گا ایمان لے آئے گا ، لیکن یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو بھی جو اس سے پہلے ایمان نہ لے آیا ہو اور اپنے ایمان میں خیر نہ کما لیا ہو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4635) صحيح مسلم (157)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تفسیر القرآن 7 (4635)، الرقاق 40 (6506)، الفتن 25 (7121)، صحیح مسلم/الإیمان 72 (157)، سنن ابن ماجہ/الفتن 31 (4068)، (تحفة الأشراف: 14897)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر 7 (3072)، مسند احمد ( 2/231، 313، 350، 372،530) (صحیح) »