کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: لڑائی پر لڑائی ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4295
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ الْغَسَّانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُتَيْبٍ السَّكُونِيِّ ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَلْحَمَةُ الْكُبْرَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑی جنگ ، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2238) ابن ماجه (4092), أبو بكر بن أبي مريم : ضعيف وكان قد سرق بيته فاختلط (تقريب التهذيب: 7974) وشيخه وليد بن سفيان الغساني: مجهول (تق : 7425) و يزيد بن قطيب مقبول (تقريب التهذيب: 7764) أي مجهول الحال, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153,
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفتن 58 (2238)، سنن ابن ماجہ/الفتن 35 (4092)، (تحفة الأشراف: 11328)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/234) (ضعیف) » (ابوبکر بن ابی مریم اور ولید بن سفیان ضعیف اور یزید سکونی لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 4296
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہو گی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہو گا ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اوپر والی حدیث کی معارض ہے، اور دونوں ضعیف ہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ بڑی جنگ کی ابتداء و انتہاء کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہو گا، اور بڑی جنگ کا اختتام اور قسطنطنیہ کی فتح اور مسیح دجال کا ظہور یہ تینوں قریب قریب واقع ہوں گے، یعنی سات مہینے کے عرصہ میں واقع ہو جائیں گے، ایک دوسرا جواب وہ ہے جو ابوداود نے دیا ہے کہ دوسری حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے لہٰذا پہلی حدیث اس کے معارض نہیں ہو سکتی کیونکہ تعارض کے لئے یکساں وجوہ ضروری ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4296
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (4093), عبداﷲبن أبي بلال لم يوثقه غير ابن حبان فھو : مجهول كما في التحرير (3240), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الفتن 35 (5194)، (تحفة الأشراف: 5194)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/189) (ضعیف) » (سند میں بقیہ بن ولید ضعیف اورابن ابی بلال لین الحدیث ہیں )