مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: فتنہ و فساد کے دنوں میں لڑائی کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4268
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ يَعْنِي فِي الْقِتَالِ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ : ارْجِعْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´احنف بن قیس کہتے ہیں کہ` میں لڑائی کے ارادہ سے نکلا ( تاکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑوں ) تو مجھے ( راستہ میں ) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے ، انہوں نے کہا : تم لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے کو مارنے اٹھیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے “ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قاتل ( کا جہنم میں جانا ) تو سمجھ میں آتا ہے لیکن کا حال ایسا کیوں ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہا تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 4268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (31) صحيح مسلم (2888)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الإیمان 22، (31)، والدیات 2 (6875)، والفتن 10 (7082)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن النسائی/المحاربة 25 (4127)، (تحفة الأشراف: 11655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/43، 47، 51) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4269
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی حسن سے` اسی مفہوم کی حدیث مختصراً مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 4269
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2888)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ ، (تحفة الأشراف: 11655) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔