حدیث نمبر: 4256
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ ، وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ ، قَالَ : فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى حَرَّةٍ ، ثُمَّ لِيَنْجُ مَا اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا ، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا ، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے “ عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے ، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے ، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے “ عرض کیا : جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے ( اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے ) پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ ( فتنوں سے ) گلو خلاصی حاصل کرے “ ۔
حدیث نمبر: 4257
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُفَضِّلٌ ، عَنْ عَيَّاشٍ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي وَبَسَطَ يَدَهُ لِيَقْتُلَنِي ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنْ كَابْنَيْ آدَمَ وَتَلَا يَزِيدُ لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ سورة المائدة آية 28 الْآيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس حدیث میں کہتے ہیں` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( اس فتنہ و فساد کے زمانہ میں ) اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے ، اور اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھائے تو میں کیا کروں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم آدم کے نیک بیٹے ( ہابیل) کی طرح ہو جاؤ “ ، پھر یزید نے یہ آیت پڑھی «لئن بسطت إلى يدك» ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ’’ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھائے‘‘ (سورۃ المائدۃ: ۲۸)
حدیث نمبر: 4258
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ وَابِصَةَ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ وَابِصَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فَذَكَرَ بَعْضَ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَتْلَاهَا كُلُّهُمْ فِي النَّارِ ، قَالَ فِيهِ : قُلْتُ : مَتَى ذَلِكَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ قَالَ : تِلْكَ أَيَّامُ الْهَرْجِ حَيْثُ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ ، قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ ؟ قَالَ : تَكُفُّ لِسَانَكَ وَيَدَكَ وَتَكُونُ حِلْسًا مِنْ أَحْلَاسِ بَيْتِكَ ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ طَارَ قَلْبِي مَطَارَهُ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ دِمَشْقَ ، فَلَقِيتُ خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ فَحَدَّثْتُهُ ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَدَّثَنِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا پھر انہوں نے ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی بعض باتیں ذکر کیں اس میں یہ اضافہ ہے : ” اس فتنہ میں جو لوگ قتل کئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے “ اور اس میں مزید یہ ہے کہ میں نے پوچھا : ابن مسعود ! یہ فتنہ کب ہو گا ؟ کہا : یہ وہ زمانہ ہو گا جب قتل شروع ہو چکا ہو گا ، اس طرح سے کہ آدمی اپنے ساتھی سے بھی مامون نہ رہے گا ، میں نے عرض کیا : اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تم اپنی زبان اور ہاتھ روکے رکھنا ، اور اپنے گھر کے کمبلوں میں کا ایک کمبل بن جانا ۱؎ ، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے تو میرے دل میں یکایک خیال گزرا کہ شاید یہ وہی فتنہ ہو جس کا ذکر ابن مسعود نے کیا تھا ، چنانچہ میں سواری پر بیٹھا اور دمشق آ گیا ، وہاں خریم بن فاتک سے ملا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ اسے انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے جیسے ابن مسعود نے اسے مجھ سے بیان کیا تھا ۔
وضاحت:
۱؎: اپنے گھر میں پڑے رہنا۔
حدیث نمبر: 4259
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ ، فَإِنْ دُخِلَ يَعْنِي عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہیں جیسے تاریک رات کی گھڑیاں ( کہ ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے ) ان فتنوں میں صبح کو آدمی مومن رہے گا ، اور شام کو کافر ہو جائے گا ، اور شام کو مومن رہے گا ، اور صبح کو کافر ہو جائے گا ، اس میں بیٹھا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہو گا ، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ، تو تم ایسے فتنے کے وقت میں اپنی کمانیں توڑ دینا ، ان کے تانت کاٹ ڈالنا ، اور اپنی تلواروں کی دھار کو پتھروں سے مار کر ختم کر دینا ۱؎ ، پھر اگر اس پر بھی کوئی تم میں سے کسی پر چڑھ آئے ، تو اسے چاہیئے کہ وہ آدم کے نیک بیٹے ( ہابیل ) کے مانند ہو جائے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان فتنوں سے بالکل کنارہ کش رہنا۔
حدیث نمبر: 4260
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ إِذْ أَتَى عَلَى رَأْسٍ مَنْصُوبٍ فَقَالَ : شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا فَلَمَّا مَضَى ، قَالَ : وَمَا أُرَى هَذَا إِلَّا قَدْ شَقِيَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ مَشَى إِلَى رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي لِيَقْتُلَهُ فَلْيَقُلْ هَكَذَا فَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ وَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد :رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْر أَو سُمَيْرَةٍ ، وَرَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ |, قَالَ أَبُو دَاوُد :قَالَ لِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، وَقَالَ : هُوَ فِي كِتَابِي ابْنُ سَبَرَةَ ، وَقَالُوا سَمُرَةَ ، وَقَالُوا سُمَيْرَةَ ، هَذَا كَلَامُ أَبِي الْوَلِيدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ` میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا کہ وہ اچانک ایک لٹکے ہوئے سر کے پاس آئے اور کہنے لگے : بدبخت ہے جس نے اسے قتل کیا ، پھر جب کچھ اور آگے بڑھے تو کہا : میں تو اسے بدبخت ہی سمجھ رہا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص میری امت میں سے کسی شخص کی طرف چلا تاکہ وہ اسے ( ناحق ) قتل کرے ، پھر وہ اسے قتل کر دے تو قتل کرنے والا جہنم میں ہو گا ، اور جسے قتل کیا گیا ہے وہ جنت میں ہو گا “ ۔
حدیث نمبر: 4261
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ : كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ يَعْنِي الْقَبْرَ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، أَوْ قَالَ : مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، قَالَ : عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ ، أَوْ قَالَ تَصْبِرُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : كَيْفَ أَنْتَ إِذَا رَأَيْتَ أَحْجَارَ الزَّيْتِ قَدْ غَرِقَتْ بِالدَّمِ ، قُلْتُ : مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، قَالَ : عَلَيْكَ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا آخُذُ سَيْفِي وَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي ، قَالَ : شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذَنْ ، قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : تَلْزَمُ بَيْتَكَ ، قُلْتُ : فَإِنْ دُخِلَ عَلَيَّ بَيْتِي ، قَالَ : فَإِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ ثَوْبَكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يَذْكُرِ الْمُشَعَّثَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! “ میں نے عرض کیا : تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں ، اللہ کے رسول ! پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! اس دن تمہارا کیا حال ہو گا ؟ جب مدینہ میں اتنی موتیں ہوں گی کہ گھر یعنی قبر ایک غلام کے بدلہ میں ملے گا ؟ “ ۱؎ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے ، یا کہا : اللہ اور اس کے رسول میرے لیے ایسے موقع پر کیا پسند فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” صبر کو لازم پکڑنا “ یا فرمایا : ” صبر کرنا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے ابوذر ! “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ارشاد فرمائیں تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا کیا حال ہو گا جب تم احجار الزیت ۲؎ کو خون میں ڈوبا ہوا دیکھو گے “ میں نے عرض کیا : جو اللہ اور اس کے رسول میرے لیے پسند فرمائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس جگہ کو لازم پکڑنا جہاں کے تم ہو ۳؎ “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی تلوار لے کر اسے اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو تم ان کے شریک بن جاؤ گے “ میں نے عرض کیا : پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے گھر کو لازم پکڑنا “ میں نے عرض کیا : اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلواروں کی چمک تمہاری نگاہیں خیرہ کر دے گی تو تم اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لینا ( اور قتل ہو جانا ) وہ تمہارا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایک قبر کی جگہ کے لئے ایک غلام دینا پڑے گا یا ایک قبر کھودنے کے لئے ایک غلام کی قیمت ادا کرنی پڑے گی یا گھر اتنے خالی ہو جائیں گے کہ ہر ہر غلام کو ایک ایک گھر مل جائے گا۔
۲؎: مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
۳؎: یعنی اپنے گھر میں بیٹھے رہنا۔
۲؎: مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
۳؎: یعنی اپنے گھر میں بیٹھے رہنا۔
حدیث نمبر: 4262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے سامنے فتنے ہوں گے اندھیری رات کی گھڑیوں کی طرح ۱؎ ان میں صبح کو آدمی مومن رہے گا اور شام کو کافر ، اور شام کو مومن رہے گا اور صبح کو کافر ، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے بہتر ہو گا ، اور کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا ، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا “ ، لوگوں نے عرض کیا : تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ہر فتنہ پہلے فتنہ سے زیادہ بڑا ہو گا جیسے اندھیری رات کی ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے۔
۲؎: یعنی گھر میں پڑے رہنا۔
۲؎: یعنی گھر میں پڑے رہنا۔
حدیث نمبر: 4263
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : ايْمُ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنِ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنِ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَلَمَنِ ابْتُلِيَ ، فَصَبَرَ فَوَاهًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` قسم اللہ کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا ، نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا ، اور جو اس میں پھنس گیا پھر اس نے صبر کیا تو پھر اس کا کیا کہنا “ ۔