حدیث نمبر: 4232
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ، " أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ` کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ۱؎ کے دن کاٹ لی گئی ، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی ، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بصرہ اور کوفہ کے مابین ایک چشمہ کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں یہاں ایک جنگ ہوئی تھی (النہا یۃ لا بن الا ثیر)
۲؎: اگرچہ حدیث میں دانت بندھوانے کا ذکر نہیں ہے، مگر مصنف نے دانت کو ناک پر قیاس کیا کہ جب ناک جو ایک عضو ہے سونے کی بنوانی جائز ہے تو سونے سے دانتوں کا بندھوانا بھی جائز ہو گا، اسی لئے ” دانت بندھوانے کا باب “ باندھا۔
۲؎: اگرچہ حدیث میں دانت بندھوانے کا ذکر نہیں ہے، مگر مصنف نے دانت کو ناک پر قیاس کیا کہ جب ناک جو ایک عضو ہے سونے کی بنوانی جائز ہے تو سونے سے دانتوں کا بندھوانا بھی جائز ہو گا، اسی لئے ” دانت بندھوانے کا باب “ باندھا۔
حدیث نمبر: 4233
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ يَزِيدُ قُلْتُ لِأَبِي الْأَشْهَبِ : أَدْرَكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عرفجہ بن اسعد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ، یزید کہتے ہیں` میں نے ابواشہب سے پوچھا : عبدالرحمٰن بن طرفہ نے اپنے دادا عرفجہ کا زمانہ پایا ہے ، تو انہوں نے کہا : ہاں ( پایا ہے ) ۔
حدیث نمبر: 4234
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَرْفَجَةَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی اسی مفہوم کی` حدیث مروی ہے ۔