حدیث نمبر: 4222
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ أَوْ غَيْرَ مَحَلِّهِ أَوْ عَنْ مَحَلِّهِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : انْفَرَدَ بِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ` اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے ، زردی یعنی خلوق کو ، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ۱؎ ، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو ، سونے کی انگوٹھی پہننے کو ، بے موقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو ، شطرنج کھیلنے کو ، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو ، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو ، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اہل بصرہ اس حدیث کی سند میں منفرد ہیں ، واللہ اعلم
وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں اکھیڑنے یا ان میں کالا خضاب لگانے کو۔