حدیث نمبر: 1175
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ تَوْبَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ , قَالَ : " قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَتُصَلِّي الضُّحَى ؟ , قَالَ : لَا ، قُلْتُ : فَعُمَرُ ؟ , قَالَ : لَا ، قُلْتُ : فَأَبُو بَكْرٍ ؟ , قَالَ : لَا ، قُلْتُ : فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ , قَالَ : لَا إِخَالُهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ بن حجاج نے ، ان سے توبہ بن کیسان نے ، ان سے مورق بن مشمرج نے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ` کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے پوچھا اور عمر پڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے پوچھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ؟ فرمایا نہیں ۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فرمایا نہیں ۔ میرا خیال یہی ہے ۔
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى , يَقُولُ : " مَا حَدَّثَنَا أَحَدٌ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، فَلَمْ أَرَ صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ` مجھ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی ( صحابی ) نے یہ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔ صرف ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعت ( چاشت کی ) نماز پڑھی ۔ تو میں نے ایسی ہلکی پھلکی نماز کبھی نہیں دیکھی ۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا کرتے تھے ۔