حدیث نمبر: 1124
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ , قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا , يَقُولُ : " اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دو رات تک ( نماز کے لیے ) نہ اٹھ سکے ۔
حدیث نمبر: 1125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " احْتَبَسَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ : أَبْطَأَ عَلَيْهِ شَيْطَانُهُ فَنَزَلَتْ : وَالضُّحَى { 1 } وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى { 2 } مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى { 3 } سورة الضحى آية 1-3 " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے خبر دی ، ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ` جبرائیل علیہ السلام ( ایک مرتبہ چند دنوں تک ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( وحی لے کر ) نہیں آئے تو قریش کی ایک عورت ( ام جمیل ابولہب کی بیوی ) نے کہا کہ اب اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے سے دیر لگائی ۔ اس پر یہ سورت اتری «والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى» ۔