کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: رات کی نماز کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1121
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ , وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ , وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، قَالَ : فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ ، فَقَالَ لِي : لَمْ تُرَعْ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے حدیث بیان کی ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں سالم نے ، انہیں ان کے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دیتے ) میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ، میں ابھی نوجوان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتا تھا ۔ چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بندش ہے ( یعنی اس پر کنویں کی سی منڈیر بنی ہوئی ہے ) اس کے دو جانب تھے ۔ دوزخ میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جنہیں میں پہچانتا تھا ۔ میں کہنے لگا دوزخ سے اللہ کی پناہ ! انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا ڈرو نہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التهجد / حدیث: 1121
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1122
فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : نِعْمَ ، الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ بَعْدُ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ یہ خواب میں نے ( اپنی بہن ) حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ تعبیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے ۔ کاش رات میں نماز پڑھا کرتا ۔ ( راوی نے کہا کہ آپ کے اس فرمان کے بعد ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات میں بہت کم سوتے تھے ( زیادہ عبادت ہی کرتے رہتے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التهجد / حدیث: 1122
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة