کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: خضاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4203
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں ، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو “ ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5899) صحيح مسلم (2103)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأنبیاء 50 (3462) واللباس 67 (5899)، صحیح مسلم/اللباس 25 (2103)، سنن الترمذی/اللباس 20 (1752)، سنن النسائی/الزینة 14 (5075)، سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3621)، (تحفة الأشراف: 13480، 15142)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/240، 260، 309، 401) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4204
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` فتح مکہ کے دن ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا ، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ ( نامی سفید رنگ کے پودے ) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2102)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/اللباس 24 (2102)، سنن النسائی/الزینة 15، (5244)، سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3624)، (تحفة الأشراف: 2807، 5079) ، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/316، 322، 338) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4205
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے اچھی چیز جس سے اس بڑھاپے ( بال کی سفیدی ) کو بدلا جائے حناء ( مہندی ) اور کتم ( وسمہ ) ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4451), سماع معمر من الجريري قبل اختلاطه
تخریج حدیث « سنن الترمذی/اللباس 20 (1753)، سنن النسائی/الزینة 16 (5081، 5082)، سنن ابن ماجہ/اللباس 32 (3622)، (تحفة الأشراف: 11927، 18882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/147، 150، 154، 156، 169) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4206
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ : " انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعُ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں ، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے ، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4206
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4065)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4065)، (تحفة الأشراف: 12036) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبِي : أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ ، قَالَ : اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ` میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں ، آپ نے فرمایا : ” طبیب تو اللہ ہے ، بلکہ تو رفیق ہے ( مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے ) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4065)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4065)، (تحفة الأشراف: 12036) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4208
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي فَقَالَ لِرَجُلٍ أَوْ لِأَبِيهِ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : ابْنِي ، قَالَ : لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَكَانَ قَدْ لَطَّخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ وہ بولے : میرا بیٹا ہے ، آپ نے فرمایا : ” یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہو گی ، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4208
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مسند الحميدي (868 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/ الشمائل (43، 45)، سنن النسائی/القسامة 35 (4836)، ویأتی برقم (4495)، (تحفة الأشراف: 12037)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/163) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4209
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَخْضِبْ وَلَكِنْ قَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خضاب لگایا ہی نہیں ، ہاں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے لگایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4209
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق دون ذكر العمرين لكن م ذكر أبا بكر , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5895) صحيح مسلم (2341)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المناقب 23 (3550)، اللباس 66 (5895)، صحیح مسلم/الفضائل 29 (2341)، (تحفة الأشراف: 293)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزینة 17 (5090)، مسند احمد (3/216) (صحیح) »