کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورت باہر جانے کے لیے خوشبو لگائے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4173
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنِي غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "إِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْأَةُ فَمَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : قَوْلًا شَدِيدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت عطر لگائے پھر وہ لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے “ آپ نے ( ایسی عورت کے متعلق ) بڑی سخت بات کہی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1065), أخرجه الترمذي (2786 وسنده حسن) ورواه النسائي (5129 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأدب 35 (2786)، سنن النسائی/الزینة 35 (5129)، (تحفة الأشراف: 9023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/400، 414، 418) (حسن) »
حدیث نمبر: 4174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الطِّيبِ يَنْفَحُ وَلِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ ، فَقَالَ : يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ جِئْتِ مِنَ الْمَسْجِدِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : وَلَهُ تَطَيَّبْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ لِامْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الْإِعْصَارُ غُبَارٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا ، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا : جبار کی بندی ! تم مسجد سے آئی ہو ؟ وہ بولی : ہاں ، انہوں نے کہا : تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے ؟ بولی : ہاں ، آپ نے کہا : میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے ، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «اعصار» غبار ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ ہوا جو مٹی و غبار کے ساتھ گولائی میں ستون کے مانند اوپر اٹھتی ہے، جسے بگولہ کہا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (1064), عاصم بن عبيد الله تابعه عبد الرحمن بن الحارث بن أبي عبيد عند البيھقي (3/133، 134 وسنده حسن) وللحديث شواھد
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الفتن 19 (4002)، (تحفة الأشراف: 14130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/246، 297، 365، 444، 461) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4175
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلْقَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدَنَّ مَعَنَا الْعِشَاءَ " ، قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ : عِشَاءَ الْآخِرَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت نے خوشبو کی دھونی لے رکھی ہو تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے ( مسجد میں ) نہ آئے “ ( بلکہ وہ گھر ہی میں پڑھ لے ) ۔ ابن نفیل کی روایت میں «العشاء» کے بجائے «عشاء الآخرة» ہے ( یعنی عشاء کی صلاۃ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4175
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (444)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 30 (444)، سنن النسائی/الزینة 37 (5131)، (تحفة الأشراف: 12207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/304) (صحیح) »