کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 4164
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ ، " أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ ، فَقَالَتْ : لَا بَأْسَ بِهِ وَلَكِنْ أَكْرَهُهُ ، كَانَ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ رِيحَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : تَعْنِي خِضَابَ شَعْرِ الرَّأْسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ` ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا : اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں ، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مراد سر کے بال کا خضاب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5093), كريمة : لم أجد من و ثقها وقال الحافظ : مقبولة (تق : 8673) أي مجهولة الحال, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 19 (5093)، (تحفة الأشراف: 17959)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/117، 210) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ ، عَنْ جَدَّتِهَا ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ هَنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْنِي ، قَالَ : " لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! مجھ سے بیعت لے لیجئیے ، تو آپ نے فرمایا : ” جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا ، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال الحافظ ابن حجر في غبطة و أم الحسن وجدتھا : ’’ وفي إسناده مجهولات ثلاث‘‘ (التلخيص الحبير 236/2), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17994) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عِصْمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، فَقَالَ : مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ ؟ قَالَتْ : بَلِ امْرَأَةٌ ، قَالَ : لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا ، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا ، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا ، اور فرمایا : ” مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا “ تو اس نے عرض کیا : نہیں ، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی “ یعنی مہندی سے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5092), صفية بنت عصمة : لا تعرف ومطيع :لين لحديث (تق : 8624،6820), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 18 (5092)، (تحفة الأشراف: 17868)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/262) (حسن) »