مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: (کبھی کبھار کنگھی کرنے کا بیان)۔
حدیث نمبر: 4159
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پابندی سے ) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو ( تو جائز ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (756 ا) نسائي (5058), ھشام بن حسان مدلس وعنعن, وحديث النسائي (8/ 132 ح 5061 وسنده صحيح) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
حدیث تخریج « سنن الترمذی/اللباس 22 (1756)، سنن النسائی/الزینة 7 (5059)، (تحفة الأشراف: 9650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4160
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمِصْرَ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَقَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ ، قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَمَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْأَرْضِ ؟ قَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ ، قَالَ : فَمَا لِي لَا أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً ؟ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ` ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس مصر گئے ، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا : میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں ، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ ( مزید ) علم ہو ، انہوں نے پوچھا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ فرمایا : وہ اس اس طرح ہے ، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا : کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں ؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ عیش عشرت سے منع فرماتے تھے ، پھر انہوں نے پوچھا : آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں ؟ تو وہ بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد بن إياس الجريري اختلط (انظر الكواكب النيرات ص 178189 وتقدم : 1555) ولم يثبت تحديثه به قبل اختلاطه, وحديث النسائي (185/8 ح 5241) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11028)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/22) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4161
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عِنْدَهُ الدُّنْيَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَسْمَعُونَ أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ يَعْنِي التَّقَحُّلَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هُوَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم سن نہیں رہے ہو ؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو ؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے ، بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے “ اس سے مراد ترک زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4161
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (4118), ابن إسحاق عنعن, وحديث الطحاوي (مشكل الآثار: 1/ 478،6/ 151) والطبراني (الكبير: 1/ 272 ح 790،وسنده حسن) يغني عنه و لفظ الطبراني: قال رسول اللّٰه ﷺ: ((إن البذاذة من الإيمان،إن البذاذة من الإيمان)), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/الزھد 4 (4118)، (تحفة الأشراف: 1745) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔