مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: بستر اور بچھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4142
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُرُشَ ، فَقَالَ : " فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِلْمَرْأَةِ وَفِرَاشٌ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے ، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2084)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/اللباس 8 (2084)، سنن النسائی/النکاح 82 (3387)، (تحفة الأشراف: 2377)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 324) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4143
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ، فَرَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ " ، زَادَ ابْنُ الْجَرَّاحِ عَلَى يَسَارِهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ أَيْضًا عَلَى يَسَارِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ۔ ابن الجراح نے «على يساره» کا اضافہ کیا ہے ” یعنی آپ اپنے بائیں پہلو پر ٹیک لگائے تھے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسحاق بن منصور نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں بھی «على يساره» کا لفظ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4143
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه الترمذي (2770 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الاستئذان 28 (2722، 2723)، الأدب 23 (2771)، (تحفة الأشراف: 2138) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4144
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى رُفْقَةً مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ رِحَالُهُمُ الْأَدَمُ ، فَقَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ كَانُوا بِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَؤُلَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے اہل یمن کے سفر کے چند ساتھیوں کو دیکھا ان کے بچھونے چمڑوں کے تھے ، تو انہوں نے کہا : جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے رفقاء کو دیکھنا پسند ہو تو وہ انہیں دیکھ لے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 7080)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/120) (صحیح الإسناد) »
حدیث نمبر: 4145
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا ، قُلْتُ : وَأَنَّى لَنَا الْأَنْمَاطُ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے توشک اور گدے بنا لیے ؟ “ میں نے عرض کیا : ہمیں گدے کہاں میسر ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4145
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5161) صحيح مسلم (2083)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/المناقب 25 (3631)، النکاح 62 (5161)، صحیح مسلم/اللباس 7 (2083)، سنن الترمذی/الأدب 26 (2774)، سنن النسائی/النکاح 83 (3388)، (تحفة الأشراف: 3029) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4146
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ : الَّتِي يَنَامُ عَلَيْهَا بِاللَّيْلِ ثُمَّ اتَّفَقَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے ، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4146
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2082)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/اللباس 6 (2082)، (تحفة الأشراف: 17202)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 16 (6456)، سنن الترمذی/اللباس 27 (1761)، وصفة القیامة 32 (17202)، سنن ابن ماجہ/الزھد 11 (4151)، مسند احمد (6 /48، 56، 73، 108، 207، 212) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4147
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَتْ ضِجْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2082)
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/ الزہد 11 (4151)، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 16951) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4148
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ فِرَاشُهَا حِيَالَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ان کا بسترا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ کے سامنے رہتا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4148
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه ابن ماجه (957 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 40 (957)، (تحفة الأشراف: 18278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/322) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔