کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جوتا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " أَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے فرمایا : ” جوتے خوب پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتے پہنے رہتا ہے برابر سوار رہتا ہے ( یعنی پاؤں اذیت سے محفوظ رہتا ہے ) “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4133
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2096), ورواه مسلم (3096) نحو المعنيٰ
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2971)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 18 (2096)، مسند احمد (3/337) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4134
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ نَعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهَا قِبَالَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جوتے میں دو تسمے ( فیتے ) لگے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایک فیتہ انگوٹھے اور اس کے پاس والی انگلی میں لگاتے تھے، جب کہ دوسرا فیتہ بیچ کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی میں لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4134
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5857)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الخمس 5 (3107)، اللباس 41 (5857)، سنن الترمذی/اللباس 33 (1773)، الشمائل 10 (71)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 62 (5369)، سنن ابن ماجہ/اللباس 27 (3615)، (تحفة الأشراف: 1392)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3 /122، 203، 245، 269) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4135
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4135
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, أبو الزبير عنعن, وللحديث شواهد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2649) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4136
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ لِيَنْتَعِلْهُمَا جَمِيعًا ، أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک جوتا پہن کر نہ چلا کرے ، دونوں پہنے رکھے یا دونوں اتاr دے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4136
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5855) صحيح مسلم (2097)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/اللباس 40 (5855)، صحیح مسلم/اللباس 19 (2097)، سنن الترمذی/اللباس 37 (1774)، سنن ابن ماجہ/اللباس 29 (1617)، (تحفة الأشراف: 13800)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس 7 (14)، مسند احمد (2 /245، 253، 314، 424، 443، 477، 480، 528) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4137
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک اس کا تسمہ درست نہ کر لے ایک ہی پہن کر نہ چلے ، اور نہ ایک موزہ پہن کر چلے ، اور نہ بائیں ہاتھ سے کھائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2099)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/اللباس20 (2099)، (تحفة الأشراف: 2717)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 327) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4138
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مِنَ السُّنَّةِ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْلَعَ نَعْلَيْهِ فَيَضَعَهُمَا بِجَنْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` یہ سنت ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پہلو میں رکھ لے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد اللّٰه بن هارون حجازي :مجهول (تق : 3674), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6571) (ضعیف الإسناد) »
حدیث نمبر: 4139
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : "إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ ، لِتَكُنْ الْيَمِينُ أَوَّلَهُمَا يَنْتَعِلُ وَآخِرَهُمَا يَنْزِعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں کوئی جوتا پہنے تو پہلے داہنے پاؤں سے شروع کرے ، اور جب نکالے تو پہلے بائیں پاؤں سے نکالے ، داہنا پاؤں پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5856) صحيح مسلم (2097)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/اللباس 39 (5854)، سنن الترمذی/اللباس 37 (1779)، (تحفة الأشراف: 13814)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 19 (2097)، سنن ابن ماجہ/اللباس 28 (3616)، موطا امام مالک/اللباس 7 (15)، مسند احمد (2/245، 265، 283، 430، 477) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4140
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُسلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ " ، قَالَ مُسْلِمٌ : وَسِوَاكِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ مُعَاذ وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَاكَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت بھر اپنے تمام کاموں میں ، وضو کرنے میں ، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنے سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے ۔ مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «وسواكه» بھی ہے یعنی ” مسواک کرنے میں “ اور انہوں نے «في شأنه كله» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے معاذ نے شعبہ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے ” مسواک کرنے کا ذکر “ نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (168) صحيح مسلم (268)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوضوء 31 (168)، الصلاة 47 (426)، الأطعمة 5 (5380)، اللباس 38 (5854)، 77 (5926)، صحیح مسلم/الطھارة 19 (268)، اللباس 44 (2097)، سنن الترمذی/الصلاة 316 (608)، الشمائل10 (80)، سنن النسائی/الطھارة 90 (112)، الغسل 17 (421)، الزینة 8 (5062)، الزینة من المجتبی 9 (5242)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 42 (401)، (تحفة الأشراف: 17657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/94، 130،147، 188، 202، 210) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4141
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4141
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (402), الأعمش مدلس وعنعن في ھذا اللفظورواه الترمذي (1766) من حديث شعبة عن الأعمش به بلفظ ’’ كان إذا لبس ثوبًا بدأبميا منه‘‘ وسنده صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطھارة 42 (402)، (تحفة الأشراف: 12380)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 28 (1766)، مسند احمد (2/354) (صحیح) »