کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان۔
حدیث نمبر: 4129
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ " ، قَالَ : وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ : قَالَ لَنَا أَبُو دَاوُدَ : أَبُو الْمُعْتَمِرِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ الْحِيَرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو “ ۔ ابن سیرین کہتے ہیں : معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں متہم نہ تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4129
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4357), أخرجه ابن ماجه (3656 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11429)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 47 (3656)، مسند احمد (4/93، 94) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ چیتے کی کھال ہوتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4130
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12898) (حسن) »
حدیث نمبر: 4131
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ " أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ ، فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَتَرَاهَا مُصِيبَةً ؟ قَالَ لَهُ : وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ ، فَقَالَ : هَذَا مِنِّي ، وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ ، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ : جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَقَالَ الْمِقْدَامُ : أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ ، فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ ، فَكَذِّبْنِي ، قَالَ : أَفْعَلُ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ ، قَالَ خَالِدٌ : فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ : وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالد کہتے ہیں` مقدام بن معدی کرب ، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا : کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا ؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا : کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا ، اور فرمایا : ” یہ میرے مشابہ ہے ، اور حسین علی کے “ ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا : ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا : آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے ، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا ، پھر انہوں نے کہا : معاویہ ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں ، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں ، معاویہ بولے : میں ایسا ہی کروں گا ۔ مقدام نے کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ معاویہ نے کہا : ہاں ۔ پھر کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں معلوم ہے ، پھر کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں معلوم ہے ۔ تو انہوں نے کہا : معاویہ ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں ؟ تو معاویہ نے کہا : مقدام ! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا ۔ خالد کہتے ہیں : پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا ، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا ، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا ، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا : مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں ، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4131
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (505), أخرجه النسائي (4260 وسنده حسن) رواية بقية عن بحير صحيحة لأنھا من كتاب
تخریج حدیث « سنن النسائی/الفرع والعتیرة 6 (4259)، (تحفة الأشراف: 11411، 11555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/132) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4132
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (506), وله شاھد حسن عند البيھقي (1/21)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/اللباس32 (1771)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 6 (4258)، (تحفة الأشراف: 131)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح) »