کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
حدیث نمبر: 4127
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ " أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا ، اس میں تھا : ” مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ ، نہ اس کی کھال سے ، اور نہ پٹھوں سے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (508), أخرجه ابن ماجه (3613 وسنده حسن) والنسائي (4254 وسنده حسن) من حديث شعبة عن الحكم به والحكم صرح بالسماع عند أحمد (4/311 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/اللباس 7 (1729)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 4 (4254)، سنن ابن ماجہ/اللباس 26 (3613)، (تحفة الأشراف: 6642)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/310، 311) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، قَالَ الْحَكَمُ : فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ ، فَخَرَجُوا إِلَيَّ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ أَخْبَرَهُمْ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَنْ لَا يَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : فَإِذَا دُبِغَ لَا يُقَالُ لَه إِهَابٌ ، إِنَّمَا يُسَمَّى شَنًّا وَقِرْبَةً ، قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يُسَمَّى إِهَابًا مَا لَمْ يُدْبَغْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ` وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے ، اندر چلے گئے ، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا ، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا : ” مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضر بن شمیل کہتے ہیں : «اہاب» ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو ، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے «اہاب» نہیں کہتے بلکہ اسے «شنّ» یا «قربۃ» کہا جاتا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حلال مردہ جانوروں کے چمڑوں سے دباغت کے بعد فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (508), انظر الحديث السابق (4128)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6642) (صحیح) »