حدیث نمبر: 4117
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ الْإِزَارَ : " فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : تُرْخِي شِبْرًا ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا ، قَالَ : فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ` ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور عورت ( کتنا دامن لٹکائے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایک بالشت لٹکائے “ ام سلمہ نے کہا : تب تو ستر کھل جا یا کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے “ ۔
حدیث نمبر: 4118
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاق ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4119
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا ثُمَّ اسْتَزَدْنَهُ فَزَادَهُنَّ شِبْرًا فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین ( رضی اللہ عنہن ) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی ، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے ۔