کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آیت کریمہ: «غير أولي الإربة» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِي ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً ، فَقَالَ : " إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا ، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث ( ہجڑا ) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا ، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خبردار ! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے ، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے ، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2181)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/السلام 13 (2181)، (تحفة الأشراف: 16634، 17247)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9237)، مسند احمد (6/152) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے` اسی مفہوم کی ( حدیث ) مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4108
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2181)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16634) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَأَخْرَجَهُ ، فَكَانَ بِالْبَيْدَاءِ يَدْخُلُ كُلَّ جُمْعَةٍ يَسْتَطْعِمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے` اور اس میں اتنا اضافہ ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکال دیا ، اور وہ بیداء میں رہنے لگا ، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4109
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4107)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : 4107، (تحفة الأشراف: 16741) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4110
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ إِذَنْ يَمُوتُ مِنَ الْجُوعِ ، فَأَذِنَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِي كُلِّ جُمْعَةٍ مَرَّتَيْنِ فَيَسْأَلُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اوزاعی سے اس واقعہ کے سلسلہ میں مروی ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! تب تو وہ بھوک سے مر جائے گا تو آپ نے اسے ہفتہ میں دو بار آنے کی اجازت دے دی ، وہ آتا اور کھانا مانگ کر لے جاتا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4110
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4107)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم :( 4107)، (تحفة الأشراف: 16518) (صحیح) »