حدیث نمبر: 4093
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنِ الْإِزَارِ ، فَقَال : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، وَلَا حَرَجَ أَوْ لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، فَهُوَ فِي النَّارِ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن کہتے ہیں` میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے : اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے ، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں ، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا “ ۔
حدیث نمبر: 4094
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ ، وَالْقَمِيصِ ، وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسبال : تہ بند ( لنگی ) ، قمیص ( کرتے ) اور عمامہ ( پگڑی ) میں ہے ، جو ان میں سے کسی چیز کو تکبر اور گھمنڈ سے گھسیٹے گا اللہ اسے قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا “ ۔
حدیث نمبر: 4095
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُمَيَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید بن ابی سمیہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ازار ( تہ بندں ، لنگی ) کے سلسلہ میں فرمائی ہے وہی قمیص ( کرتہ ) کے متعلق بھی ہے ۔
حدیث نمبر: 4096
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ أَنَّهُ ، رَأَى ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْتَزِرُ ، فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهِ ، قُلْتُ : لِمَ تَأْتَزِرُ هَذِهِ الْإِزْرَةَ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَزِرُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ کا بیان ہے کہ` انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں ، میں نے ان سے پوچھا : آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں ؟ تو وہ بولے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے ۔