کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4090
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْمَعْنَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ مُوسَى : عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، وَقَالَ هَنَّادٌ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ هَنَّادٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل کا فرمان ہے : بڑائی ( کبریائی ) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند ، تو جو کوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وله شاھد عند مسلم (2620)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/البر والصلة 38 (2620)، سنن ابن ماجہ/الزھد 16 (4174)، (تحفة الأشراف: 12192)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/248، 376، 414، 427، 442) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4091
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ الْقَسْمَلِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر کبر و غرور ہو اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (91)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الإیمان 39 (91)، سنن الترمذی/البر والصلة 61 (1998)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (59)، (تحفة الأشراف: 9421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/287، 412، 416، 2/164، 3/12،17) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4092
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَجُلًا جَمِيلًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى حَتَّى مَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ ، إِمَّا قَالَ بِشِرَاكِ نَعْلِي ، وَإِمَّا قَالَ بِشِسْعِ نَعْلِي ، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لَا وَلَكِنَّ الْكِبْرَ : مَنْ بَطِرَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ ایک خوبصورت آدمی تھا اس نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے خوبصورتی پسند ہے ، اور مجھے خوبصورتی دی بھی گئی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ میں نہیں چاہتا کہ خوبصورتی اور زیب و زینت میں مجھ سے کوئی میری جوتی کے تسمہ کے برابر بھی بڑھنے پائے ، کیا یہ کبر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں بلکہ کبر یہ ہے کہ حق بات کی تغلیط کرے ، اور لوگوں کو کمتر سمجھے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (4091)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14540) (صحیح الإسناد) »