حدیث نمبر: 4057
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ يَعْنِي الْغَافِقِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ ، وَأَخَذَ ذَهَبًا ، فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا ، پھر فرمایا : ” یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں “ ۔
حدیث نمبر: 4058
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا سِيَرَاءَ " ، قَالَ : وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ریشمی دھاری دار چادر پہنے دیکھا ۔ راوی کہتے ہیں : «سیراء» کے معنی ریشمی دھاری دار کپڑے کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4059
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَنْزِعُهُ عَنِ الْغِلْمَانِ وَنَتْرُكُهُ عَلَى الْجَوَارِي ، قَالَ : مِسْعَرٌ فَسَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو ( اسے پہنے دیکھتے تو انہیں ) چھوڑ دیتے تھے ۔ مسعر کہتے ہیں : میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مسعر نے جب یہ حدیث عبدالملک بن میسرہ زراد کوفی سے عمرو بن دینار کے واسطہ سے روایت کرتے سنی تو انہوں نے براہ راست عمرو بن دینار سے اس کے بارے میں پوچھا تو عمرو نے لاعلمی کا اظہار کیا ممکن ہے انہیں یہ حدیث یاد نہ رہی ہو وہ بھول گئے ہوں، واللہ اعلم۔