کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قباء کا بیان۔
حدیث نمبر: 4028
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى ، أَنَّ اللَّيْثَ يَعْنِيَ ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ قَالَ : " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، قَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قِبَاءٌ مِنْهَا ، فَقَالَ : خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ مَخْرَمَةُ ثُمَّ اتَّفَقَا ، قَالَ : رَضِيَ مَخْرَمَةُ " ، قَالَ قُتَيْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُسَمِّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : بیٹے ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا ( جب وہاں پہنچے ) تو انہوں نے مجھ سے کہا : اندر جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لیے بلا لاؤ ، تو میں نے آپ کو بلایا ، آپ باہر نکلے ، آپ انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا : ” میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لیا تھا “ تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے فرمایا : ” مخرمہ خوش ہو گیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4028
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2599) صحيح مسلم (1058)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الہبة 19 (2599)، الشہادات 11 (2127)، الخمس 11 (3127)، اللباس 12 (5800)، 42 (5862)، الأدب 82 (6132)، صحیح مسلم/الزکاة 44 (1058)، سنن الترمذی/الأدب 53 (2818)، سنن النسائی/الزینة 45 (5326)، (تحفة الأشراف: 11268)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/328) (صحیح) »