کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 3958
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْن ، " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : قَوْلًا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ ، فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا ، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے : پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو ( جن کے نام قرعہ میں نکلے ) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3958
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1668)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحدود 12 (1668)، سنن الترمذی/الأحکام 27 (1364)، سنن النسائی/الجنائز 65 (1960)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 20 (2345)، (تحفة الأشراف: 10880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/426، 431، 438، 440) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3959
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ ، فَقَالَ لَهُ : قَوْلًا شَدِيدًا وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ ، فَقَالَ لَهُ : قَوْلًا شَدِيدًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوقلابہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت سست کہا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3959
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2958)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10880) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3960
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الطَّحَّانُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ ، وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک انصاری نے ... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3390), أبو زيد ھو عمرو بن أخطب رضي الله عنه
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10695) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3961
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی پھر دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3961
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح مسلم (1668)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3958)، (تحفة الأشراف: 10839) (صحیح) »