کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3955
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبِيعَ بِسَبْعِ مِائَةِ أَوْ بِتِسْعِ مِائَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا ۔
وضاحت:
۱؎: مدبر: اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2230) صحيح مسلم (997 بعد ح1668)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 59 (2141)، الاستقراض 16 (2403)، الخصومات 3 (2415)، العتق 9 (2534)، کفارات الأیمان 7 (6716)، الإکراہ 4 (6947)، الأحکام 32 (7186)، سنن النسائی/الزکاة 60 (2547)، سنن ابن ماجہ/العتق 1 (2512)، مسند احمد (3/305، 368، 369، 370، 371، 390)، سنن الدارمی/البیوع 37 (2615) (تحفة الأشراف: 2416، 2443)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 13 (997)، الأیمان 13 (997)، سنن الترمذی/البیوع 11(1219) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3956
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا ، زَادَ وَقَالَ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ وَاللَّهُ أَغْنَى عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ` مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے “ ( یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بے نیاز ہے ، اور بندہ محتاج ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2425)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (5001) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3957
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : يَعْقُوبُ ، عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ يَشْتَرِيهِ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا ، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ ، أَوْ قَالَ : عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَهُنَا وَهَاهُنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا ، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا : ” اسے کون خریدتا ہے ؟ “ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے ، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے “ یا فرمایا : ” اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اپنے دوستوں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (997)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/ الزکاة 13 (997)، سنن النسائی/ الزکاة 60 (547)، (تحفة الأشراف: 2667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301، 369) (صحیح) »