کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3937
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلَّا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی ، بغیر اسے مشقت میں ڈالے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وانظر الحديث السابق (3934)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3938
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَهَذَا لَفْظُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ أَوْ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ، فَخَلَاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا ، فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی “ پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے ( یہ علی کے الفاظ ہیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2527) صحيح مسلم (1503)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3939
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے` ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3939
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وانظر الحديث السابق (3938)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح) »