کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3933
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ ،عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا " أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ " ، زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ : فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (3934)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الکبری العتق 17 (4970)، (تحفة الأشراف: 134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3934
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کا تاوان دلایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3934
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2527) صحيح مسلم (1503), وانظر الحديث الآتي (3938),
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الشرکة 5 (2492)، 14 (2504)، والعتق 5 (2527)، صحیح مسلم/العتق 1 (1503)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، سنن ابن ماجہ/العتق 7 (2527)، (تحفة الأشراف: 12211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/255، 347، 426، 468، 472، 531) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3935
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ " ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ` آپ نے فرمایا : ” جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہو گی ۱؎ “ ، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بھی اسی کو ادا کرنی ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1502), وانظر الحديث السابق (3934)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3936
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہو گا اگر اس کے پاس مال ہے “ ۔ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3936
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وانظر الحديث السابق (3934)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3934)، (تحفة الأشراف: 1211) (صحیح) »