کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: شرط لگا کر غلام آزاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3932
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : " أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ ، فَقُلْتُ : وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ ، فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفینہ کہتے ہیں کہ` میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا ، وہ مجھ سے بولیں : میں تمہیں آزاد کرتی ہوں ، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے ، تو میں نے ان سے کہا : اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا ، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3398), أخرجه ابن ماجه (2526 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/العتق 6 (2526)، (تحفة الأشراف: 4481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/221) (حسن) »