کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: مکاتب غلام بدل کتابت میں سے کچھ ادا کرے پھر نہ دے سکے یا مر جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 3926
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مکاتب ۱؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت ( آزادی کی قیمت ) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کر لے۔
حدیث نمبر: 3927
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ، قَالُوا : هُوَ وَهْمٌ وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے ( ایسا نہیں ہو گا کہ جتنا اس نے ادا کر دیا اتنا وہ آزاد ہو جائے ) اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا ( جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے ) “ ۔
حدیث نمبر: 3928
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي ، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ` میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے “ ( کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے ) ۔