کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3910
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَيْسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا ، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3910
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (4584), أخرجه الترمذي (1614 وسنده صحيح) سفيان تابعه شعبة عند أبي داود الطيالسي (356)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/السیر 47 (1614)، سنن ابن ماجہ/الطب 43 (3538)، (تحفة الأشراف: 9207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 438، 440) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3911
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ " . فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : مَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ ، فَيُجْرِبُهَا ، قَالَ : فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ، قَالَ مَعْمَرٌ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ ، قَالَ : فَرَاجَعَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ ؟ " قَالَ : لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : قَدْ حَدَّثَ بِهِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ نَسِيَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے ، نہ کسی چیز میں نحوست ہے ، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے “ تو ایک بدوی نے عرض کیا : پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے ؟ وہ ہرن کے مانند ( بہت ہی تندرست ) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کر دیتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا ؟ “ ۔ معمر کہتے ہیں : زہری نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے “ پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، اور ان سے کہا : کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے ، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے ، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے “ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا ، اور کہا : میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے ۔ زہری کا بیان ہے : ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا ، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3911
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5770) صحيح مسلم (2220)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الطب 25 (5717)، 45 (5757)، 53 (5770)، 54 (5772)، (تحفة الأشراف: 15273، 15502)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 33 (2223)، مسند احمد (2/267، 327، 397) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3912
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے ، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے ، نہ نچھتر کوئی چیز ہے ، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2220 بعد ح 2221)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14068)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الطب 33 (2220)، مسند احمد (2/397) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ ، حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، وَزَيدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا غُولَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھوت پریت کو کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12322، 12829، 12868) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 3914
قَالَ أَبُو دَاوُد : قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ ، قَالَ : سُئِلَ مَالِكٌ : عَنْ قَوْلِهِ : لَا صَفَرَ ، قَالَ : إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ يُحِلُّونَهُ عَامًا ، وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا صَفَرَ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوداؤد کہتے ہیں` حارث بن مسکین پر پڑھا گیا ، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : «لا صفر» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : جاہلیت میں لوگ «صفر» کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے ( محرم کا مہینہ قرار دے کر ) حرام رکھتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «صفر» ( اب ایسا ) نہیں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3914
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) »
حدیث نمبر: 3915
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے ، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے ، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3915
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الطب 44 (5756)، 54 (5776)، سنن الترمذی/السیر 47 (1615)، (تحفة الأشراف: 1358)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 34 (2224)، مسند احمد (3/118، 154، 178) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3916
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قال : قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، قَوْلُهُ هَامَ ، قَالَ : كَانَت الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ : لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ ، فَيُدْفَنُ ، إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ ، قُلْتُ : فَقَوْلُهُ " صَفَرَ " قَالَ : سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَفَرَ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ ، فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي ، فَقَالَ : " لَا صَفَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بقیہ کہتے ہیں کہ` میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے : جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے ، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «صفر» میں نحوست نہیں ہے ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں : میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے : «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے ، لوگ کہتے تھے : وہ متعدی ہوتا ہے ( یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے ) تو آپ نے فرمایا : ” «صفر» کوئی چیز نہیں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3916
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5756) صحيح مسلم (2224)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) »
حدیث نمبر: 3917
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ سُهَيلٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ ، فَقَالَ : أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سنی جو آپ کو بھلی لگی تو آپ نے فرمایا : ” ہم نے تیری فال تیرے منہ سے سن لی ( یعنی انجام بخیر ہے ان شاء اللہ ) “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3917
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وله شاھد حسن عند أبي شيخ الأصبھاني في أخلاق النبي ﷺ (ص251)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15501)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/388) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3918
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : يَقُولُ : " وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ ، النَّاسُ الصَّفَرُ ، قُلْتُ : فَمَا الْهَامَةُ ؟ ، قَالَ : يَقُولُ النَّاسُ : الْهَامَةُ الَّتِي تَصْرُخُ هَامَةُ النَّاسِ وَلَيْسَتْ بِهَامَةِ الْإِنْسَانِ إِنَّمَا هِيَ دَابَّةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ` صفر ایک قسم کا درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے تو میں نے پوچھا : ہامہ کیا ہے ؟ کہا : لوگ کہتے تھے : الو جو بولتا ہے وہ لوگوں کی روح ہے ، حالانکہ وہ انسان کی روح نہیں بلکہ وہ ایک جانور ہے ( اگلے لوگ جہالت سے اسے انسان کی روح سمجھتے تھے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3918
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) »
حدیث نمبر: 3919
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ الْمَعْنَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ أَحْمَدُ ، الْقُرَشِيُّ قَالَ : " ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ ، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طیرہ ( بدشگونی ) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال ، اور اچھا ( شگون ) ہے ، اور فال ( شگون ) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے : «اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك» ” اے اللہ ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3919
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سفيان الثوري وحبيب عنعنا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9899) (ضعیف) » (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے )
حدیث نمبر: 3920
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا ، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے فال بد ( بدشگونی ) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی ، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3920
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن, ولبعض الحديث شاهد عند الضياء في المختارة بلفظ ’’ كان يتفأل ولا يتطير ويعجبه الإسم الحسن ‘‘ (144/12 ح169) وھو حسن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1993)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3921
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی ، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے ، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے ، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے ، عورت اور گھر میں ہوتی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3921
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4586)
تخریج حدیث تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3861)، وقد أخرجہ: حم (1/180، 186) (صحیح)
حدیث نمبر: 3922
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ ، أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ ، قَالَ : كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ ، فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ ، فَهَلَكُوا ؟ فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نحوست گھر ، عورت اور گھوڑے میں ہے ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے ، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے ، واللہ اعلم ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے: اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی پچھلی روایت سے بھی ہو رہی ہے، اور وہ جو دیگر روایات میں ہے، جیسے حدیث نمبر (۳۹۲۴) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ظاہر کو حقیقت سمجھ بیٹھیں اور ان کا عقیدہ خراب ہو جائے اسی لئے اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جیسے کوڑھی سے بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم خود فرمایا ہے کہ: چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ والمحفوظ إن كان الشؤم , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5093) صحيح مسلم (2225)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجھاد 47 (2858)، النکاح 17 (5093)، الطب 43 (5753)، 54 (5772)، صحیح مسلم/السلام 34 (2225)، سنن الترمذی/الأدب 58 (2824)، سنن النسائی/الخیل 4 (3599)، سنن ابن ماجہ/النکاح 55 (1995)، (تحفة الأشراف: 6864، 18276، 6699)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 8 (22)، مسند احمد (2/8، 36، 115، 126) (صحیح) » (اس حدیث میں «الشؤم» کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایتوں میں «إنما الشؤم» ہے جبکہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے «إن کان الشؤم» ثابت ہے، جس کے شواہد سعد بن أبی وقاص (کما تقدم: 3921)، سہل بن سعد (صحیح البخاری/5095)، وجابر (صحیح مسلم/2227) کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو: الصحیحة: 799، 789، 1857)۔
حدیث نمبر: 3923
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، وَعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ ، أَوْ قَالَ : وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يحيي بن عبد اللّٰه بن بحير : مستور (تق : 7579) وشيخه مجهول لم يسم, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/451) (ضعیف الإسناد) » (فروة کے شاگرد مبہم ہیں)
حدیث نمبر: 3924
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا ، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا ، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَرُوهَا ذَمِيمَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آ گئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو ، مذموم حالت میں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑ جائیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3924
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عكرمة بن عمار مدلس وعنعن, بل صرح بالسماع عند البزار (البحر الزخار 79/13 ح6427), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 193) (حسن) »
حدیث نمبر: 3925
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ ، وَقَالَ : كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا : ” اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3925
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1817) ابن ماجه (3542), مفضل بن فضالة : ضعيف (تق : 6857), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأطعمة 19 (1817)، سنن ابن ماجہ/ الطب 44 (3542)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف) » (اس کے راوی مفضّل بن فضالة بصری ضعیف ہیں )