کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3907
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَوُفٌ ، حَدَّثَنَا حَيَّانُ ، قَالَ غَيْر مُسَدَّدٍ ، حَيَانُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ قَبِيصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْعِيَافَةُ وَالطِّيَرَةُ وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ " ، الطَّرْقُ : الزَّجْرُ ، وَالْعِيَافَةُ : الْخَطُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” رمل ، بدشگونی اور پرند اڑانا کفر کی رسموں میں سے ہے “ پرندوں کو ڈانٹ کر اڑانا طرق ہے ، اور «عيافة» وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں جسے رمل کہتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, حيان بن العلاء : مجهول (التحرير : 1598) وثقه ابن حبان وحده, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11067)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/477، 5/60) (ضعیف) » (اس کے راوی حیان لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 3908
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ عَوْفٌ : " الْعِيَافَةُ زَجْرُ الطَّيْرِ وَالطَّرْقُ الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف کہتے ہیں` «عيافة» سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور «طرق» سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں ( اور جسے رمل کہتے ہیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) »
حدیث نمبر: 3909
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ ؟ ، قَالَ : كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (537)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (930)، (تحفة الأشراف: 11378) (صحیح) »