کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: علم نجوم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3905
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا ، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3905
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4598), أخرجه ابن ماجه (3726 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأدب 28 (3726)، (تحفة الأشراف: 6559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227، 311) (حسن) »
حدیث نمبر: 3906
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : قَالَ : أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے کہا : میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی ، اور کچھ نے کافر ہو کر ، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا ، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3906
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (846) صحيح مسلم (71)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 156 (846)، الاستسقاء 28 (1038)، المغازي 35 (4147)، التوحید 35 (7503)، صحیح مسلم/الإیمان 32 (125)، سنن النسائی/الاستسقاء 16 (1526)، عمل الیوم واللیلة 267 (924)، (تحفة الأشراف: 3757)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستسقاء 3 (4)، مسند احمد (4/115، 116، 117) (صحیح) »