حدیث نمبر: 3885
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وابْنُ السَّرْحِ ، قَالَ أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وقَالَ ابْنُ السَّرْحِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ،عَنْ عَمْروِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَقَالَ ابْنُ صَالِحٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ أَحْمَدُ : وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَقَالَ : اكْشِفِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بَطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ ، ثُمَّ نَفَثَ عَلَيْهِ بِمَاءٍ وَصَبَّهُ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ ابْنُ السَّرْحِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ : وَهُوَ الصَّوَابُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا : «اكشف الباس رب الناس " . عن ثابت بن قيس» ” لوگوں کے رب ! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے “ پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3886
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال : كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقُلْنَا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَ : اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو “ ۔
حدیث نمبر: 3887
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ ، فَقَالَ لِي : " أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” «نملہ» ۱؎ کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: «نملہ» ایک بیماری ہے جس میں جسم کے دونوں پہلؤوں میں پھنسیوں کے مانند دانے نکلتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3888
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، قَالَتْ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيفٍ ، يَقُولُ : مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ فِيهِ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا سَيِّدِي ، وَالرُّقَى صَالِحَةٌ ؟ ، فَقَالَ : لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الْحُمَةُ مِنَ الْحَيَّاتِ وَمَا يَلْسَعُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا ، اور بخار لے کر باہر نکلا ، اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : ” ابوثابت کو شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے کہو “ ۔ عثمان کی دادی کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : میرے آقا ! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے ( ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں ان میں دوا یا دعا کام آتی ہے ) “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «حمہ» سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3889
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ . ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ الْعَبَّاسُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ دَمٍ يَرْقَأُ " ، لَمْ يَذْكُرِ الْعَبَّاسُ الْعَيْنَ وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جھاڑ پھونک صرف نظر بد کے لیے یا زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے لیے یا ایسے خون کے لیے ہے جو تھمتا نہ ہو “ ۔ عباس نے نظر بد کا ذکر نہیں کیا ہے یہ سلیمان بن داود کے الفاظ ہیں ۔