حدیث نمبر: 3865
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمُّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ ، فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَ وَلَا أَنْجَحْنَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَانَ يَسْمَعُ تَسْلِيمَ الْمَلَائِكَةِ ، فَلَمَّا اكْتَوَى انْقَطَعَ عَنْهُ ، فَلَمَّا تَرَكَ رَجَعَ إِلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا ، اور ہم نے داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا ، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہو گیا ، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے ( یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے ) ۔
حدیث نمبر: 3866
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مِنْ رَمِيَّتِهِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا داغا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس روایت سے علاج کے طور پر داغنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ممانعت تو وہ یا تو عمران بن حصین کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ ممکن ہے انہیں کوئی ایسی بیماری لگی ہو جس میں داغنا مفید نہ ہو، یا بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطاً وہ یہ کرنے جارہے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہو کیونکہ بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔