کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سینگی (پچھنا) لگانے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3859
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ، قَالَ كَثِيرٌ إِنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ أَهْرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان سینگی ( پچھنے ) لگواتے اور فرماتے : ” جو ان جگہوں کا خون نکلوالے تو اسے کسی بیماری کی کوئی دوا نہ کرنے سے کوئی نقصان نہ ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطب / حدیث: 3859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3484), الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطب 21 (3484)، (تحفة الأشراف: 12143) (ضعیف) (الضعیفة: 1867، وتراجع الألباني: 194) »
حدیث نمبر: 3860
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ " ، قَالَ مُعَمَّرٌ : احْتَجَمْتُ فَذَهَبَ عَقْلِي حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي صَلَاتِي وَكَانَ احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے ۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے : میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورۃ فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا ، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطب / حدیث: 3860
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2051) ابن ماجه (3483), قتادة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطب 12 (2051)، سنن ابن ماجہ/الطب 21 ( 3483)، (تحفة الأشراف: 1147)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 192) (صحیح) »