کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کھانے میں پرہیزی اور احتیاط کا بیان۔
حدیث نمبر: 3856
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، وَهَذَا لَفْظُ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رَضَي اللهُ عَنْهُ ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا ، وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ : مَهْ إِنَّكَ نَاقِهٌ ، حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ رَضَي اللهُ عَنْهُ ، قَالَتْ : وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا ، فَجِئْتُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَلِيُّ أَصِبْ مِنْ هَذَا فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ هَارُونُ الْعَدَوِيَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ تھے ، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے ، علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” ٹھہرو ( تم نہ کھاؤ ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو “ یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ رک گئے ، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہارون کی روایت میں «انصاریہ» کے بجائے «عدویہ» ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطب / حدیث: 3856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (2037 وسنده حسن) وابن ماجه (3442 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/ الطب 1 (3037)، سنن ابن ماجہ/الطب 3 (3442)، (تحفة الأشراف: 18362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/363، 364) (حسن) »