حدیث نمبر: 3849
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بَنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» ” اللہ تعالیٰ کے لیے بہت سارا صاف ستھرا بابرکت شکر ہے ، ایسا شکر نہیں جو ایک بار کفایت کرے اور چھوڑ دیا جائے اور اس کی حاجت نہ رہے اے ہمارے رب تو حمد کے لائق ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3850
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ غَيْرِهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے : «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا “ ۔
حدیث نمبر: 3851
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى ، وَسَوَّغَهُ ، وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے : «الحمد لله الذي أطعم وسقى ، وسوغه ، وجعل له مخرجا» ” ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا ، اسے خوشگوار بنایا اور اس کے نکلنے کی راہ بنائی “ ۔