کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کھانے میں مکھی گر جائے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3844
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء ، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے ، اس کے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3844
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (4143), أخرجه ابن خزيمة (105) ابن عجلان صرح بالسماع عند الطحاوي في مشكل الآثار (4/283 وسنده حسن) وله شواھد عند البخاري (3320)
تخریج حدیث « تفر دبہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13049)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 17 (3320)، الطب 58 (5782)، سنن ابن ماجہ/الطب 31 (3505)، سنن الدارمی/الأطعمة 12 (2081) (صحیح) »