کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: زمین پر موجود کیڑوں مکوڑوں کے کھانے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3798
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ حَجْرَةَ ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ التَّلِبِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَةِ الْأَرْضِ تَحْرِيمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا لیکن میں نے کیڑے مکوڑوں کی حرمت کے متعلق نہیں سنا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3798
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ملقام : مستور (تق: 6878) أي مجهول الحال, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2051) (ضعیف الإسناد) » (اس کے راوی ملقام مجہول الحال ہیں )
حدیث نمبر: 3799
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ ؟ ، فَتَلَا : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 ، قَالَ : قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا ، فَهُوَ كَمَا قَالَ مَا لَمْ نَدْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نمیلہ کہتے ہیں کہ` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپ سے سیہی ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی : «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ” اے نبی ! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا “ ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا : میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے “ ۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں ۔
وضاحت:
۱؎: بڑے چوہے کی مانند ایک جانور جس کے پورے بدن پر کانٹے ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3799
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عيسي بن نميلة وأبوه مجهولان (تق: 5336،7194) والشيخ مجهول, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/381) (ضعیف) » (اس کی سند میں ایک راوی شیخ مبہم ہیں )