کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کھانے سے گھن کرنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 3784
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ ؟ ، فَقَالَ : لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہلب طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا : کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے دل میں کوئی شبہ نہ آنے دو ( اگر اس کے سلسلہ میں تم نے شک کیا اور اپنے اوپر سختی کی تو ) تم نے اس میں نصرانیت کے مشابہت کی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3784
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4087), أخرجه الترمذي (1565 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/السیر 16 (1565)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 26 (2830)، (تحفة الأشراف: 11734)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/226) (حسن) »